15 مئی 2026 - 00:16
تہران کے جوابات، ٹرمپ کو دیوانہ کیوں کر دیتے ہیں؟

امریکہ اپنے مسودے پر ایران کے جواب سے سخت ناراض ہے؛ لیکن حقیقت کیا ہے؟ ایران نہ صرف اپنا 400 کلو 60 فیصد یورینیم حوالے نہیں کرتا، بلکہ امریکی جرائم کا معاوضہ، 100 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی آزادی اور سمندری ڈکیتی کی امریکی پالیسی کے خاتمے کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کی پیشگی شرط قرار دیتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ سوال پچھلے چند گھنٹوں میں ابھر آیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے جواب سے ناخوش کیوں ہے؟ خبروں کا جائزہ لیں گے تو وجہ واضح ہو سکتی ہے۔

1- دستیاب خبروں کے مطابق، امریکہ کو [بے جا] توقع ہے کہ وہ 400 کلو 60 فیصد افزودہ یورینیم امریکہ کی تحویل میں دینے پر آمادہ ہوجائے۔

یہ امریکی درندگی پر استوار مطالبہ، اگر قبول کر لیا جائے تو، عملی طور پر ایران کے لئے شکست کا ایک ڈومینو بن جائے گا اور یوں کہئے کہ ایران اپنی سرزمین پر امریکی-اسرائیلی حملوں کا حق تسلیم کرے گا جو ایران کے دوسرے مطالبات بھی اس تسلیم شدگی کے تحت عملاً بے اثر ہوجائیں گے۔

2- ایران نے امریکہ سے جنگ کا معاوضہ [تاوان جنگ] طلب کیا ہے جس سے امریکہ بہت ناراض ہے! کیونکہ ایران کو معاوضہ دینے کا مطالبہ قبول کرنے پر امریکہ کے اندرونی ماحول جنونی انداز سے ٹرمپ کے خلاف ہوجائے گا۔ کیونکہ اسی وقت ٹرمپ جھوٹ اور مضحکہ خیز وعدوں، دعوؤں اور نعروں سے "بلاواسطہ" اور "بالواسطہ" جنگ کے عظیم اخراجات پر پردہ ڈال رہا ہے تاکہ امریکی معاشرے کو مشتعل نہ ہونے دے۔ [گوکہ یہ رویہ جاری رکھنا بہت مشکل ہے]۔

3- امریکہ ایران سے چاہتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے دستبردار ہوجائے اور اسے کھول دے؛ گویا نہ کوئی جرم و گناہ ہؤا نہ ہی کوئی نقصان (No harm no foul)! نہ امریکہ نے ایران پر حملہ کیا ہے، نہ نقصان پہنچایا ہے، نہ ایران کے رہبر معظم اور میناب کے بچوں کو شہید کر دیا ہے، نہ بھارت میں ایک جنگی مشق میں جانے والے نہتے "دِنا" جنگی جہاز کے عملے کو قتل کیا ہے، نہ ہی 40 روزہ جنگ کے دوران ایرانی عوام کا عمومی قتل کیا ہے، نہ ہی ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان تمام کہے اور بہت سارے ان کہے جرائم کے ارتکاب کے باوجود امریکہ کا یہ مطالبہ صرف احمقانہ نہیں بلکہ بہت بے شرمانہ اور بے حیائی پر مبنی ہے جسے صرف خوددار ایرانی قوم، بلکہ دنیا کی کوئی قوم، اسے قبول نہیں کرے گی۔

4- ٹرمپ ناراض ہے کیونکہ ایران اسے فتح مند ظاہر ہونے کا موقع نہیں دے رہا ہے، اور جب تک وہ اپنے جرائم کا معاوضہ نہیں لے لیتا، دستبردار نہیں ہوگا؛ اور یہ صورت حال اس کے لئے تکلیف دہ ہے۔

5- ایران نے جوہری سائنس اور آبنائے ہرمز کو اپنی سرخ لکیر قرار دے دیا ہے اور ٹرمپ کے لئے یہ تکلیف دہ ہے کہ مزاحمتی محاذ اور جوہری سائنس کے ساتھ ساتھ ایران کے لئے ایک نیا ہتھیار فعال ہو گیا ہے اور اب دنیا کو امریکہ کی اندھادھند پیروی کے سخت اثرات برداشت کرنا ہوں گے اور سمجھنا ہوگا کہ یہ سب ٹرمپ کی حماقت کا نتیجہ ہے۔

6- ایران اپنے 100 ارب ڈالر سے زائد منجمد اثاثوں تک رسائی کا خواہاں ہے اور امریکہ کی اس کھلی ڈکیتی اور بحری قزاقی کے خاتمے کو، کسی بھی معاہدے کے حصے کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن امریکہ اور ٹرمپ ٹیم کی درندگی اور لوٹ مار کی خصلت اسے قبول کرنے میں رکاوٹ ہے۔ امریکہ ایران کی تعمیر نو اور ترقی کا موقع چھین لینا چاہتا ہے اور یہ وہی پالیسی ہے جو اگست 1953 سے اب تک مختلف رنگین دستانوں اور میک اپ کے ساتھ ایران کے خلاف جاری رکھی گئی ہے۔

نتیجتاً کسی بھی معاہدے میں رکاوٹ خود امریکہ اور ان کا استکباری رویہ ہے اور جب تک یہ طرز عمل امریکہ کے رویے پر حکم فرما رہے گا، معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا... یہ وہی چیز ہے جسے ثالثوں کو بھی صحیح طور پر سمجھنا ہوگا۔

ٹرمپ کی ناراضگی کتنی اہم ہے؟

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے:

- ایران ٹرمپ کا بھرم رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

- تہران ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا جو ٹرمپ کے لئے باعث اعزاز ہو اور وہ اس پر فخر کر سکے۔

- ٹرمپ کا غصہ کم کرنے کے لئے آبنائے ہرمز پر اپنی حکمرانی سے دستبردار نہیں ہونگے۔

- ٹرمپ اپنے صدارتی دور کے آخر تک ناراض رہ سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر:  مہدی خسروی

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha